قضا نمازیں ادا کرنے کا طریقہ
قضا نمازیں ادا کرنے کا طریقہ
سوال
ایک شخص ایسا ہو کہ اس کو یاد نا ہو کہ اس کے ذمہ کتنی نمازیں قضا ہیں اور وہ ان کو ادا کرنا چاہتا ہو تو وہ کیسے ادا کرے گا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو تعداد معلوم نا ہو تو وہ رمضان کے آخری جمعہ میں دو رکعت نماز نفل اس طرح پڑھے کہ سورۃ الکافرون ، اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص یا اسی طرح مختلف طریقہ کار لوگ میسج کرتےہیں کیا اس طرح سے قضا نمازوں کی ادائگی ہو جائے گی ؟
جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اپ نے جو سوال پوچھا ہے یہ بہت اہم ہے سب سے پہلے یہ جان لیں کہ نماز فرض عین ہے اس عبادت کے بارے میں آپ نے یہ پڑھا اور سنا ہو گا کہ انسان کی اگر صحت ٹھیک نا ہو اور وہ کھڑا ہو کر نماز ادا نا کر سکتا ہو تو بھیٹھ کر نماز پڑھے اگر یہ بھی نا کرے سکے تو اشاروں سے نماز پڑھے گا یعنی کہ اس کی چھوٹ نہیں ہے ۔
اب رہی بات کہ قضا نماز تو اس کی تعداد اگر صحیح معلوم نا ہو سکے تو اندازہ لگائے گا اپنے بالغ ہونے کے بعد سے لے کر آج تک کہ اس نے تقریبا کتنی نمازیں قضا کی ہیں ۔
اب جب اس کو غالب گمان ہو جائے کہ اتنی نمازیں بن رہی ہیں جیسے فرض کریں کہ اس کی ظہر کی نمازوں کی تعداد بن رہی ہے 60 تو اب اس کے لیے آسان یہ ہے کہ ہر دن ظہر کی نماز کے ساتھ یعنی ظہر کے وقت میں چار رکعت فرض نماز قضا کے بی پڑھے گا اسی طرح فجر کا حساب لگا کہ وہ بھی پڑھے گا یاد رکھیں کہ فجر کی سنتیں بھی پڑھنی ہیں اسی طرح مغرب کہ فرض اور عشاء کے فرض اور وتر بھی ادا کرے گا ۔
باقی رہی بات کہ رمضان المبارک کہ آخری جمعہ میں دو رکعت نفل نماز کو اس طرح پڑھنا تو یہ بات کہیں بھی نا تو قرآن پاک سے ملتی ہے نا احادیث مبارکہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے یہ سب لوگوں کی جہالت پر مبنی باتیں ہیں ۔
اللہ پاک ہم کو دین سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں )آمین
واللہ اعلم بالصواب
No comments